Current affair, Uncategorized

اپنی لڑائی کی تے پرائی کی!

وزیرِاعظم عمران خان نے یومِ شہدا و دفاعِ پاکستان کے موقع پر جی ایچ کیو کی مرکزی تقریب سے خطاب کے دوران ایک وعدہ یہ بھی کیا کہ ” پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا‘‘۔

اس پر مجھے ماسی مٹھن یاد آ گئی۔ جن کا ماشا اللہ ساتواں بچہ ہونے لگا تو دردِ زہ کے دوران لیبر روم سے آواز آ رہی تھی ”اب کے میں کبھی کولے نہ لگوں‘‘۔ یعنی اب میں کبھی ( اس کے ) پاس نہ پھٹکوں گی۔ اور اگلے برس پھر آٹھواں بچہ ایک بار پھر ماسی مٹھن کے اسی فریادی عہد کے ساتھ دنیا میں تشریف لے آیا۔

خان صاحب نے بھی شاید معصومیت میں کہہ دیا کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا۔ خان صاحب بھی وقت کے ساتھ ساتھ جان جائیں گے کہ سیاست و سفارت کاری کے معاملے میں ہر جواب اوپن رکھا جاتا ہے۔ قطعیت کے ساتھ کوئی ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے وقت پڑنے پر نبھانا مشکل ہو جائے۔ کل کس نے دیکھا اور خان صاحب کے بعد آنے والے کا کیا پتہ اور خود خان صاحب کا بھی کیا پتہ کہ کل کس مجبوری میں کون سا وعدہ توڑ کے یو ٹرن لینا پڑ جائے۔ اور اس بارے میں خان صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یو ٹرن لینا کس قدر تکلیف دہ عمل ہے۔

” کوئی بھی جنگ شروع ہونے تک فیصلہ سازوں کے قابو میں رہتی ہے۔ شروع ہو جائے تو فیصلہ ساز جنگ کے قابو میں ہوتے ہیں ‘‘۔ اگر اس ضرب المثل کی عملی تعبیر دیکھنی ہو تو افغان جنگ کے پاکستان کے ساتھ رشتے میں دیکھ لو۔ پاکستان کی عمر تہتر برس ہے اور افغان جنگ کی عمر چالیس برس۔ گویا پاکستان کی ساٹھ فیصد زندگی افغان لڑائی اور اس کے اثرات تلے گزر گئی اور گزر رہی ہے۔

مگر ہم بھی کتنے سادے ہیں کہ انیس سو اڑتالیس انچاس کی چھ ماہ کی جنگِ کشمیر، سترہ دن کی پینسٹھ کی جنگ، ڈیڑھ ماہ کی اکہتر کی جنگ اور چار ماہ کے کرگل ایڈونچر کو تو بھرپور جنگیں سمجھتے ہیں مگر چالیس برس سے اپنی ہی زمین پر لڑی جانے والی افغان لڑائی کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتے۔ بلکہ اسے ہم کوئی جنگ ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جتنی اقتصادی، سماجی، جانی و مالی تباہی و عسکری نقصان پاکستان کو افغان جنگ نے پہنچایا وہ ان چاروں جنگوں سے ہزار گنا زیادہ ہے جنھیں ہم تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

پچھلے چالیس برس سے ہم جس جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ہم پر امریکا اور سعودی عرب وغیرہ نے نہیں تھوپی بلکہ ضیا الحق نے آگے بڑھ کر خریدی اور پھر باقی دنیا نے اس جنگ کو پاکستان پر بطور بار برداری لاد دیا۔ ہم نے دنیا کی پہلی آؤٹ سورس جنگ خریدی اور پھر آگے آؤٹ سورس کرنی شروع کر دی اور انھوں نے مزید آگے کرائے پر چلانا شروع کر دی۔ اب تو خیر سے یہ ایسی اربوں کھربوں کی صنعت بن چکی ہے جس پر لاکھوں لوگوں کا تکیہ ہے۔

یہ پہلی جنگ تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف جنگ نہ رہی بلکہ اسے طرح طرح سے پیکیج کر کے مارکیٹنگ کی گئی۔ جس طرح بکرے کی ران، پٹھ، گردن، سری پائے، کلیجی گردے، اوجھڑی اور کھال الگ الگ بیچے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلسل جاری افغان جنگ کے پیٹ سے منشیات کی ایک پوری ایگرو بیسڈ انڈسٹری، آڑھتی اور فروخت کرنے والوں کو ملا کر ڈرگ ایمپائر وجود میں آئی۔ اسی ایمپائر کے چچیروں نے اسلحے کا کام بھی شروع کر دیا اور پھر اس ایمپائر نے جو کالا دھن پیدا کیا وہ مختلف اداروں اور سیاست و معیشت میں بٹ بٹا کر جذب ہوتا چلا گیا۔

انتہا پسندی کو آکسیجن اسی سرمائے سے ملی اور آج انتہا پسندی اپنی معیشت میں خود کفیل ہے۔ اس بٹ بٹائی کے نتیجے میں ایک نئی پولٹیکو اکنامک کلاس وجود میں آئی جس نے جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے بزنس کو ایک آرٹ فارم کی شکل دے دی۔ اور ہمیں نئی اصطلاحات، نئے امکانات، نئے مستقبل کے ڈزنی لینڈ کی طرف لگا دیا تاکہ پاکستان کو چالیس برس سے درپیش سب سے بڑی اور مسلسل جنگ کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں دیکھنے کے بجائے کوئی باؤلا اس کا ایسا میورل نہ بنا لے جس میں ہر واقعہ، ہر کردار اور ہر مفاد ایک دوسرے سے جڑا ہوا نظر آجائے۔ میورل سوالات کو جنم دے گا اور سوال کتنا بھی معصوم ہو لیکن اپنے جوہر میں ہوتا خطرناک ہی ہے۔

عمران خان جب کہتے ہیں کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ پاکستان آیندہ کبھی کسی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا تو کیا انھیں احساس ہے کہ اس ایک سیدھے سادے بے ضرر سے وعدے کو ریاض، دلی، تہران، کابل، بیجنگ اور واشنگٹن کس طرح اپنے اپنے مفاداتی عدسے لگا کے کتنی سنجیدگی یا غیرسنجیدگی سے دیکھ رہے ہوں گے؟

اگر اس برے میں سے اب تک کچھ اچھا ہوا ہے تو شاید یہ کہ پاکستان اب زمانے کی مار کھا کھا کے سیانا ہو گیا ہے۔ پہلے وہ کسی کام کی قیمت طے کرنے کے لیے سودے بازی نہیں کرتا تھا اور موٹے موٹے حساب پر مان جاتا تھا۔ اب وہ فی اسکوائر فٹ فی گھنٹہ چارج کرنا سیکھ گیا ہے۔ کوئی ملک بھلے سپرپاور ہی کیوں نہ ہو اپنی جنگ خود نہیں لڑنا چاہتا۔ بلکہ چاہتا ہے کہ کوئی پیسے لے کر اس کی طرف سے لڑ لے۔ پاکستان بھی وقت کے ساتھ ساتھ سپرپاورز کی یہ تکنیک سیکھ گیا ہے اور اس نے اپنے اہداف بھروسے کی تنظیموں کو ایک عرصے سے آؤٹ سورس کرنے شروع کر دیے ہیں۔ مگر پاکستان کو ابھی اس تکنیک میں مزید مہارت حاصل کرنا باقی ہے کہ کام نکالنے کے بعد کسی بھی پارٹی کو نیوٹرلائز یا ناکارہ کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ کسی اور سے مال پکڑ کے پاکستان پر ہی نہ پلٹ جائے۔ جیساکہ حالیہ برسوں میں کچھ تلخ تجربات ہوئے ہیں۔

خان صاحب کا یہ ارادہ اپنی جگہ نہایت مثبت ہے کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں حصہ دار نہیں بنے گا۔ مگر اس وعدے پر قائم رہنا کسی بھی کمزور ملک کے لیے آسان نہیں۔

اگر آپ کی آمدنی کا مستقل اور قابلِ اعتماد ذریعہ نہ زراعت ہو، نہ صنعت، نہ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے آنے والا زرِ مبادلہ۔ اگر آپ کا ٹیکس بیس مضبوط نہ ہو، اگر آپ کا خرچ آپ کی بچت سے دس ہاتھ آگے ہو، اگر آپ واجبات کی عدم وصولی، لیکیج، کرپشن اور مصلحت آمیز احتساب بازی کے عادی ہوں اور اس کے نتیجے میں ہر آن بڑھتے خسارے کو سینگوں سے پکڑنے کے بجائے چند دن اور ٹالنے یا آگے ہنکالنے کے لیے کشکول لے کر قرض، خیرات کی تلاش یا پھر قومی زیورات رہن رکھوانے کو بھی عار نہ سمجھیں تو پھر آپ کچھ بھی عزم ظاہر کرتے رہیں آپ کی ریاست اور اس کے ادارے برائے فروخت یا ترغیب و تحریص کے اسیر ہی رہیں گے۔ اس کے بعد ” نوکر کی تے نخرا کی۔ اپنی لڑائی کی تے پرائی کی؟ ‘‘۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔

Advertisements
Entertainment, Uncategorized

Hollywood Attraction 2015

Southpaw
*ing : Jake Gyllenhaal, Rachel McAdams, Naomie Harris, Forest Whitaker
Releasing: 24th July 2015

Dark Places
*ing: Charlize Theron, Christina Hendricks
Releasing: 7th August 2015

Black Mass
*ing: Johnny Depp, Joel Edgerton, Benedict Cumberbatch, Sienna Miller
Releasing: 18th Sept 2015

Pawn Sacrifice
*ing: Tobey Maguire, Liev Schreiber, Peter Sarsgaard
Releasing: 18th Sept 2015

The Martian
*ing: Matt Damon, Jeff Daniels, Kristen Wiig, Sean Bean
Releasing: 2nd October 2015

The Walk
*ing: Joseph Gordon-Levitt, Ben Kingsley, James Badge
Releasing: 2nd October 2015
http://www.dailymotion.com/video/x2qzwym_the-walk-2015-movie-trailer_shortfilms

Pan
*ing: Hugh Jackman, Garrett Hedlund, Rooney Mara, Amanda Seyfried
Releasing: 9th October 2015
http://www.dailymotion.com/video/x2y7nsi_pan-2015-movie-adventure-trailer-hd-hugh-jackman-levi-miller-garrett-hedlund_shortfilms

Steve Jobs
*ing: Michael Fassbender, Seth Rogen, Kate Winslet, Jeff Daniels
Releasing: 9th October 2015

Bridge of Spies
*ing: Tom Hanks, Mark Rylance, Amy Ryan
Releasing: 16th October 2015

Spectre
*ing: Daniel Craig, Christoph Waltz, Léa Seydoux, Monica Bellucci, Ralph Fiennes
Releasing: 6th November 2015

Miscellaneous, Uncategorized

Periodic Pakistani.

We as individuals, spend our lives mostly on periodic basis. For example, most of us become patriotic for 14 days. We send messages, we wish each other, our leaders give special statements about country, nation, homeland, sacrifices, harmony blah, blah .But after 14 days it’s all GONE..just like that..  May Allah help us. 😦