فیض صاحب کی یاد میں

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم، نہ اشک آنکھوں میں
نمازِ عشق تو واجب ہے، بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاو ہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدہِ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیارِ غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیض ذکرِ وطن اپنے روبرو ہی سہی

——————————————–

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
درباں کا عصاء ہے کہ مصنف کا قلم ہے
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پہ جو بشارت
تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے
جس دھجی کوگلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے
جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں
یہ خونِ شہیداں ہے کہ زر خانہِ جم ہے
حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے